This Group aims to promote solidarity amongst the Pakistani's on the issue of Easy Access to Pornography in Pakistan, as the name itself suggests.

Let there arise out of you a band of people inviting to all that is good, enjoining what is right, and forbidding what is wrong: They are the ones to attain felicity.

Monday, 15 June 2015

ایگزیکٹ کے سرور سے غیر اخلاقی ویب سائٹس آپریٹ ہونیکا انکشاف



کراچی ,  ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے فرانزک کی مدد سے ایگزیکٹ کمپنی کے سرورسے 25 سے زائد غیر اخلاقی ویب سائٹس آپریٹ کرنے کا سراغ لگا لیا۔ مذکورہ سائٹس کی ہوسٹنگ ایگزیکٹ کے سرور سے ہوتی تھی۔ ایگزیکٹ انتظامیہ مذکورہ فحش ویب سائٹس کی ہوسٹنگ سے مسلسل انکار کرتی رہی ہے ۔ 


جعلی ڈگری کیس کے علا وہ ایزیکٹ کپمنی غیر قانونی  سائٹس  کئی ممالک میں ہوسٹ کر رہی تھی ،ذرائع نے مزید بتایا کہ سائٹس درجنوں سرور پر چل رہی تھی اور  کمپنی غیر اخلاقی مواد تخلیق کرنے میں بھی ملو ث ہے جو انٹر نیٹ پر اپلوڈ کیا جاتا 
تھا ۔اس ضمن میں انکوئری بنا دی گئی ہے جو تحقیق کر رہی ہے کہ یہ فلم پاکستان   یا دوسرے ممالک میں فلمائی گئی ہے ۔

Sunday, 19 October 2014

فحش مواد دیکھنے سے چھٹکارا کیسے پائیں ؟


نشہ کسی بھی قسم کا ہو اس کا نتیجہ زندگی کی بربادی کی صورت میں نکلتا ہے اور کچھ یہی مال نئے زمانے میں فحش فلموں اور دیگر مواد کے نشے کا ہے۔
اگرچہ اکثر نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع سے دستیاب فحش مواد کو دیکھنے سے کسی بھی طرح باز نہیں رہ سکتے لیکن اگر نیت سچی ہو تو آپ باآسانی اس لت سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ اس لئے چند انتہائی مفید ہدایات پر عمل کریں:
1۔ پہلے تو یہ تسلیم کریں کہ اگر آپ آئے روز انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے فحش مواد دیکھتے ہیں یا موبائل فون کو اس مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں تو آپ کو اس کی لت پڑچکی ہے اور اس سے نجات کیلئے عزم کرلیں۔
2 ۔اگلا کام یہ کریں کہ اپنے کمپیوٹر پر موجود تمام فحش مواد کو ڈیلیٹ کردیں اور براﺅزر میں موجود کنٹرولز کو استعمال کریں تاکہ آئندہ ایسی کوئی ویب سائٹ آپ کے سامنے نہ کھلے۔
3 ۔اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لائیں، جیسا کہ اچھے دوستوں کے قریب ہوں اور گھر والوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں۔
4 ۔ایسی خوراک کا استعمال بڑھائیں جس میں کاربوہائیڈریٹ کی کثرت ہو۔
5 ۔باقاعدگی سے ورزش کریں اور کھیلوں میں حصہ لیں۔
6 ۔نیند اچھی طرح پوری کریں اور خصوصاً رات کو دیر تک جاگنا بالکل بند کردیں۔
7 ۔صبح جلدی اٹھیں اور نماز باقاعدگی سے پڑھیں۔
8 ۔تفریح کیلئے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کی بجائے اچھی کتابیں پڑھیں اور کوشش کریں کہ آپ انٹرنیٹ پر اپنا کام سب کے سامنے کریں۔
9 ۔مذہب کی طرف توجہ دیں اور اپنی سوچ کو مثبت اور صاف رکھنے کیلئے کوشاں رہیں۔
10 ۔منفی اور غیر اخلاقی سوچ والے دوستوں سے دور رہیں۔

Tuesday, 14 October 2014

گندے میسج کس طرح صحت کو تباہ کرتے ہیں

 سمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور دیگر آن لائن آلات آج کے دوران میں بہت ہی سہولت سمجھی جاتی ہیں اور ہر دوسرے شخص کے پاس یہ تمام آلات موجود ہوتے ہیں لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ہر شے کے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں۔ اگر ان آلات کا استعمال رابطے میں رہنے کے لئے کیاجائ

برطانوی یونیورسٹی نے حال ہی میں اس پر تحقیق کی ہے اور اس کے نتائج نے مغربی معاشرے کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق نوجوان لڑکے اور لڑکیاں غیر اخلاقی میسج اور تصاویر شیئر کرتے ہیں تو ان کی دماغی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات ہوتے ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں اور دوستوں سے دور ہوتے جاتے ہیں اور ان کی شخصیت میں منفی خیالات حد سے زیادہ ہوجاتے ہیں جبکہ معاشرے میں ایک ایسا اخلاقی بگاڑ آتا ہے جو کہ مستقبل قریب میں تمام انسانوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔ مزید برآں جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہ تصاویر ایک دوسرے سے شیئر کرتے ہیں تو اکثر یہ احتمال ہوتا ہے کہ یہ تصاویر اکثر سماج دشمن گروہ مذموم مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گندے میسج کی وجہ سے نوجوان خود لذتی کا شکار ہوتے جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر ان کی جنسی زندگی تباہ ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ جبکہ ذہنی طور پر یہ لوگ معاشرے میں ناصرف تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں بلکہ وہ ایک مثبت کردار ادا کرنے میں بھی ناکام ہوجاتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ نسل کو اس طرح کی مکروہ حرکات سے نہ روکا گیا تو آنے والے دور میں معاشرہ مکمل تباہی کا شکار ہوسکتا ہے۔

ے تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن اگر ان آلات کو شیطانی خواہشات کی تکمیل اور جنسی لذت کے حصول میں ضائع کیا جائے تو ناصرف مالی طور پر نقصانات ہوتے ہیں بلکہ اس کے صحت پر انتہائی خطرناک اثرات بھی ہوتے ہیں۔

Thursday, 11 September 2014

خود لذتی کی مکروہ عادت سے چھٹکارا پانے کےلئے مفید مشورے

خود لذتی کی عادت نو عمر لڑ کوں میں عام پائی جاتی ہے۔اگرچہ اس کے منفی اثرات کے بارے میں ماہرین میں اختلاف پایا جاتاہے ۔لیکن ایک بات وضح ہے اس عادت کا حد سے زیادہ رسیا ہو جانے والے نوجوانوں کو جسمانی اور ذہنی مسائل کاسامنا کرنا پڑتاہے ۔اگر آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عادت آپ کی روز مرہ زندگی میں مسائل پیدا کر رہی ہے تو اس پر قابو پانے کے لیے کچھ مفید مشورے پیش خدمت ہیں ۔
سب سے پہلے تو ندامت اور احساس جرم کو ختم کریں کیو نکہ ہر ایک کی شخصیت میں منفی اور مثبت باتیں پائی جاتی ہیں اور اگر آپ کسی عادت میں نقصان دہ حد تک مبتلا ہو چکے ہیں تو یہ کوئی جرم نہیں ۔ اس کی اصلاح کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ایسے حالا ت کا تدراک کریں جو آپ کو خود لذتی پر مائل کرتے ہیں مثلاً رات کو دیر تک جاگنا ،فحش فلمیں دیکھنا ،تنہائی میں رہنا اور جنسی خیالات میں کھوئے رہنا وغیرہ ۔فراغت اور تنہائی میں آپ کو خود لذتی پر مائل کرتی ہے لہذا زیادہ سے زیادہ وقت گھروالوں اور اچھے دوستوں کے ساتھ گزاریں  صحت مند سرگرمیوں کا آغاز کریں جیسا کہ کھیل کود ، فلاحی بہبود کے کام اور لکھے پڑھنے جیسے شوق اپنائیں ۔ اپنی خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کا اضافہ کریں تاکہ آپکے جسم و ذہن کو توانائی ملے اور آپ اپنے کمر ے کو چھوڑ کر بیرون خانہ سرگرمیوں میں متمرک ہو جائیں،  صبر سے کام لیں ۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس عادت سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب نہیں ہو رہے تو ہمت نہ ہاریں اور پیہم کوشش جاری رکھیں کیو نکہ یہ عادت تبدیل ہو نے میں وقت لگ سکتا ہے ۔ کسی قابل بھروسہ بڑے یا بزرگ سے مدد لیں اور رہنمائی کے لیے مشورہ کریں ۔اخلاقی اصلاح کرنے والے بزر گ مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں  اپنے ذہن میں بات بٹھا لیں کہ یہ کوشش آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط کر ے گی اور اس کے مفید نتائج بر آمد ہونگے ، یہ بات آپکو یکسوئی کے ساتھ محنت جاری رکھنے میں مدد دے گی۔

Wednesday, 20 November 2013

Google, Microsoft Tighten Online Searches To Combat Child Porn

Google and Microsoft unveiled measures to block online searches for child sex abuse images on Monday as part of a bid by British authorities to crackdown on Internet pedophiles.
 The companies said as many as 100,000 search terms will now fail to produce results and trigger warnings that child abuse imagery is illegal while offering advice on where to get help.

The world's two largest search engine operators' move was a rare display of unity ahead of an Internet safety summit on Monday hosted by Prime Minister David Cameron.
Cameron welcomed the progress to block illegal content but said far more still needed to be done.
"If more isn't done to stop illegal child abuse content being found, we will do what is necessary to protect our children," he tweeted ahead of the summit that will announce a new trans-Atlantic task force to tackle online child abuse. The summit comes after Cameron this summer called on Internet firms to do more to stop access to illegal images. Now both companies have introduced new algorithms that will prevent searches for child abuse imagery.
Google executive chairman Eric Schmidt wrote in Britain's Daily Mail newspaper that these changes had cleaned up the results for over 100,000 queries that might be related to the sexual abuse of children.
"As important, we will soon roll out these changes in more than 150 languages, so the impact will be truly global," he wrote, adding the restrictions would be launched in Britain first then expanded to other languages in the next six months.
Both Google and Microsoft, who were due to join other Internet companies at the summit on Monday, have also agreed to use their technological expertise to help in the identification of abuse images.
Schmidt said Google planned to provide engineers to give technical support to the Internet Watch Foundation in Britain and the U.S. National Center for Missing and Exploited Children, and to fund internships for engineers at these organizations.
Conservative parliamentarian Claire Perry, who is Cameron's adviser on childhood, said British and U.S. law enforcement agencies would back up this effort by tracking pedophiles using the "hidden Internet" or so-called "dark web" of encrypted networks to distribute images of child abuse.
(Reporting by Belinda Goldsmith, editing by William Hardy)

Monday, 22 October 2012

Swiss Lawmakers Reject Burqa Ban

Swiss lawmakers have voted against a ban on the Muslim women burqa (face veil), putting an end to plans made by far right parties several years ago. “Today in Switzerland, wearing this type of clothing for religious reasons doesn’t pose any problems in daily life and is a rare practice in the Swiss Muslim community,” centre-right Radical Party parliamentarian Hugues Hiltpold said. Following a March Senate vote with the same result, the lower house of the Swiss parliament rejected the motion pushed by the canton of Aargau in a vote of 93 to 87.

The burqa ban proposal was first made by far-right Swiss People’s Party (SVP) under the title “Masks Off”.
It proposed a ban on wearing of face-veils, which is also called Niqab, on public transport. The bill also allowed authorities to “ban or restrict access to public buildings to such individuals in order to guarantee the security of other users.” Far right lawmakers had argued that the ban was necessary for public safety. But opponents said the proposal was excessive because so few women wear burqas in Switzerland.
The wearing of face-veil has been the focus of growing debate in the West in recent years.While hijab is an obligatory code of dress for Muslim women, the majority of Muslim scholars agree that a woman is not obliged to wear the face veil. Scholars believe it is up to women to decide whether to take on the veil or burka, a loose outfit covering the whole body from head to toe and wore by some Muslim women.
Hurting Muslims
Speaking for the majority, Hiltpold said banning the burqa would be excessive and would encourage tourists from Muslim countries to have negative opinions of the country. Affecting the country’s image abroad, he added that a ban on Muslim face veil would have bad effect on the countries Muslim minority. “Banning the niqab or the burka in Switzerland would have adverse consequences for Swiss Muslims.”
The proposed ban on burqa is not the first move by far right politicians against the country’s Muslim minority.
In 2009, the SVP has championed a ban on the building of mosque minarets in the European country.
According to the CIA Factbook, Switzerland is home to some 400,000 Muslims, representing 5 percent of the country’s nearly eight million people.

 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Best Buy Coupons